| تحریر سہیل بلخی |
| جمعرات, 06 اکتوبر 2011 10:55 |
کراچی کے حالت فوج کے ایکشن کے بعد اچانک بہتر ہو گے .. پتہ نہیں آخر فوج کو کراچی کی عوام کا اچانک خیال کیوں آگیا ...
لوگ کہتے ہیں کے چیف جسٹس کے نوٹس لینے کے بعد یہ بہتری آئ ہے ... کچھ کہتے ہیں کہ یہ سب عارضی ہے ... بھر حال رمضان کے آخری ہفتے سے ہی سب کچھ بدلا بدلا لگ رہا ہے...
یہاں سیاسی جماتوں سے لوگ شدید نفرت کرتے ہیں .. چاہے وہ ایم کیوایم ہو یا جماعت ہو یا مسلم لیگ ...میں عام لوگوں سے ملتا ہوں تو کسی کو بھی کسی جماعت کی تعریف کرتا نہیں پاتا...
.. مسلم لیگ کو بھی اندازہ ہے کہ لوگوں کو باہر لانا مشکل ہے اس لیے وو بھی بجلی کی لوڈ شیدڈنگ سہارا لے کر لوگوں کو باہر لانے کی کوشش میں ہےاب یہ بات کھل کر سامنے اگائی کے بجلی کی کمی نہی ہے . بلکہ بجلی پیدا کرنے کی استعداد تو شاید ١٩ ہزار ہے اور ضرورت ١٦ ہزار میگا واٹ ہے .. حکومت مختلف وجوہات کی بنا پر پوری گنجائش کے مطابق بجلی نہی پیدا کر پا رہے ہے ... اگر اور پلانٹس لگ گے تو اس سے کوئی فایدہ نہی ہو گا.. بجلی پیدا کرنے کی استعداد بڑھ جاۓ گی .. مگر پیدا تو اتنی ہی ہو گی جتنی آج ہو رہی ہے .... کراچی کے کاروبار کو بھتہ کلچر اور لوڈ شیدڈنگ کے سبب جو نقصان پہنچا ہے اس کو ٹھیک ہونے میں چار پانچ ماہ کا اور وقت لگے گا... لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب آنے والا وقت بہتری کی طرف جاۓ گا . ذرا سوچیں کے جو لوگ اتنے بعد ترین حالت میں بھاگ کر لاہور ، ملیشیا ، دبئی اور ڈھاکہ نہیں گے... اور اسی شہر میں رہ کر اپنے کاروبار کو زندہ رکھا .. وو تاجر برادری اچھے حالت میں کیا کچھ نہی کر سکتی ؟ برٹش ہائی کمیشن نے جب ہی تو ایک پروگرام میں کہا کہ ... جو کراچی میں کاروبار کر سکتا ہے وہ دنیا میں ہر جگہ کامیاب کاروبار کر سکتا ہے ... میڈیا کا رول اچھا نہی ہے ... وو کبھی کسی پروگرام میں اس کا ذکر نہی کریں گے کہ ٢ کروڑ کے شہر میں ایک مہینے سے کوئی ٹارگٹ کللنگ نہی ہو رہی ...، حالت کافی اچھے ہو گے.. میڈیا کے نزدیک یہ کوئی "خبر " نہیں ہے ... وہ صرف بری خبر کو خبر سمجھتے ہیں .. دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں اچھی اور بری خبروں کا ایک تناسب ہوتا ہے .... میڈیا کا کم صرف لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا نہی ہوتا ... کیا ہی اچھا ہو کہ ایک خبر چلے کہ آج کراچی کے کسی بھی حصّے سے کسی نا خوشگوار خبر کی کوئی اطلاعات موصول نہی ھوئ. کراچی کے تمام اسکول اور بازار بغیر کسی خوف اور ہراس کے کھلے رہے ... لگتا ہے کہ میڈیا صرف "بریکنگ نیوز " کی بدولت ہی زندہ رہ سکتا ہے .. ورنہ نیوز چینلز کو ڈر ہے کہ لوگ ڈراموں اور اسپورٹس چینل کی طرف نا چلے جایں ... ہر چینل گروپ کا اسپورٹس اور ڈراموں کا چینل نہیں ہے ... اس لیے "بریکنگ نیوز " کا مقابلہ جاری رہتا ہے گزشتہ دو روز سے ٹی وی کے کے چینلز ایک بڑھیا کو دیکھا رہے تھے جو رو رو کرکیہ رہی تھی تھی کہ اس کو یہ پتہ ہی نا چلا کہ اسٹیٹ بینک نے پانچ سو کے پرانے نوٹ تبدیل کر دیے .. ہاتوں میں وہ پانچ پانچ سو کے نوٹ دکھا دکھا کر کیہ روتے ہوے کیہ رہی تھی " میری بیٹی کے جیز کے لیے تھے یہ پیسے ، اب میرا کیا ہو گا " دیکھ کر دل پسیج گیا .. کچھ گھنٹوں کے بعد میڈیا کے چینلز کا مقابلہ شروع ہو گیا اور ایک نئی "بریکنگ نیوز " میں یہ بتایا گیا کہ مقامی صوبائی اسمبلی کے رکن ، جو شاید ایم کیو ایم کے ہوں یا پی پی پی کے "اس نیوز چینل " کی خبر پر بڑھیا کے گھر پوھنچ گے ... بات غریب کی مدد کرنے کی ہو اور اس بات کی بھی یقین دہانی ہو کے اس " مدد" کی بھر پور تشیر ملے گی تو کوئی کیوں پیچھے رہتا اگلے روز کی "بریکنگ نیوز " میں میں بتایا جا رہا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے شرجیل میمن " اس چینل" کی نیوز پر حرکت میں آگئے اور انہوں نے بڑھیا کی مدد ٩٥ ہزار روپے سے کی .. ٩٥ ہزار میں تو کوئی دس سیکنڈ کا اشتہار بھی نہی چلاتا .. شرجیل میمن واقعی پیپلز پارٹی میڈیا کی ذمداری ٹھیک نبھا رہے ہیں ... پچانوے ہزار میں کم سے کم پانچ کروڑ کا کام تو کیا ... آج صبح آفس کے لیے نکلنے سے پہلے ٹی وی کے سامنے چاۓ پیتے ہوے کچھ "بریکنگ نیوز " سے استفادہ کر رہا تھا کہ خبر سنی کہ وہی بڑھیا ٹی وی پر کیہ رہی تھی کے "یہ مرے پیسے نہیں تھے ، یہ تو مجھے بابو جواری نے دیے تھے کہ ٹی وی پر شور کرو ،پیسے بھی مل جایں گے اور امداد بھی ملے گی بڑھیا کیہ رہے تھی کے " میں نے بابو کو منا بھی کیا تھا کے ، دیکھ ہم پھنس سکتے ہیں " میں نے ریموٹ لے کر ٹی وی کا چینل بدل دیا کسی اور بریکنگ نیوز کے لیے .. |
Thursday, 6 October 2011
جھے پاکستانی نیوز چینلز کی بریکنگ نیوز سے بچاؤ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment