Friday, 9 March 2012

abaad huin isharat gahain veeran masajid roti hain
taari hai fizaa par mosseqi pamaal azaanain hoti hian
barbaad khizan hai mustaqbil, maazi ki bahahrain soti hain
phoolon k bajay kanton par shabnam k shikasta moti hain
yeh waq -e- amal kirdar ay shar , kia dast dua phelata hun

kehnay ko musalman main bhi hun lekin kehtay sharmata hun

taaif main muqaddas khoon tapka, makkay main kabhi patharr khaye!!!
bas aik tarap thi, kesi tarap??, insaan hidayat pa jaye
har gham ko laga kar seenay se darmaan k tareeqay sikhlaye
kia qahar hai yeh inssan usi mohsin ko bhula kar kho jaye!!!
uff kitnay gunahon k sadqay deen ki bunyaden dhata hun

kehnay ko musalman main bhi hun lekin kehtay sharmata hun

baatil ki bhayanak saazish main, shetaan ki zallim ghaaton main 
islam hu tukray tukray , firqon main, jathon main, zaaton main
main meethi neendain sota hun is mout ki kaali raaton main 
khud apnay lahoo ka paymana raqsan hun uthaay haathon main
mahool ki rag rag main apna napaak laho dorata hun

kehnay ko musalman main bhi hun lekin kehtay sharmata hun

yeh barf si khamooshi main magar aik dard bahri awaz hai kia ??
mizraab e  ajam nay cher dia phir deen-e- arab ka saa hai kia ??
baatil k muqabil ubharay hain phir se jo musalman- raz hai kia ??
kia khatam hui taghooti shab, subh-e-nau ka agahaz hai kya
sunta hun kahin se baange dara, uthtay hain qadam ruk jata hun

kehnay ko musalman main bhi hun lekin kehtay sharmata hun

kehnay ko musalman main bhi hun lekin kehtay sharmata hun

Monday, 30 January 2012

نفاذ اسلام میں حکمت

اس معاملے میں سب سے پہلی بات جو سمجھ لینی چاہیے وہ یہ ہے کہ جس چیز کا نام اسلامی نظام ہے وہ کسی بے ایمان اور بدکردار حکومت کے ہاتھوں سے نہیں چل سکتا۔ کوئی خدا سے بے خوف بیوروکریسی اسے نہیں چلا سکتی۔ کسی ایسی آبادی میں وہ ٹھیک طور پر نہیں چل سکتا جس کی اخلاقی حالت بالعموم خراب ہو اور خراب کی جاتی رہی ہو....
۞اسلام کا علم پہیلایا جائے: اب اگر کوئی اسلامی حکومت قائم ہو تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ چھوٹتے ہی مثالی نظام کی طرف پلٹ جائے گی۔ آغازِ کار میں اگر کچھ ہوسکتا ہے تو وہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہو جو ملک کے تمام ذرائع و وسائل، ملک کے تمام ذرائعِ ابلاغ، ملک کے سارے نظامِ تعلیم، اور حکومت کی پوری انتظامی پالیسی کو اس غرض کے لیے استعمال کریں کہ مسلمانوں میں اسلام کا علم وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے اور ان کی عام اخلاقی حالت کو درست کیا جائے۔ جس قدر اسلام کا علم پھیلے گا اور عام اخلاقی حالت درست ہوتی جائے گی اتنی ہی زمین اسلامی نظام کے لیے تیار ہوتی چلی جائے گی.... بے شک اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کی کوشش کیجیے۔ قوانین اسلامی کو مدون بھی کیجیے تاکہ ہماری عدالتیں ان کے مطابق فیصلے کرسکیں، مگر بس یہی ایک کام ایسا نہیں ہے جس سے اسلامی نظام قائم ہوجائے۔
۞ذرائعِ ابلاغ کی اِصلاح:سب سے زیادہ زور جس بات پر صَرف کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمارے تمام ابتدائی اور ثانوی مدرسوں اور ہمارے تمام کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں اسلامی تعلیم دی جائے۔ ذرائعِ ابلاغ کو فحش اور بے حیائی، بداخلاقی اور جرائم پھیلانے کے بجاے مسلمانوں کو ایمان اور اسلامی عقائد سمجھانے اور ذہن نشین کرنے پر صَرف کیا جائے۔ عام لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اسلامی اخلاق کیا ہیں اور کافر انہ اخلاق کیا، اور دونوں قسم کے اخلاقوں میں فرق کیا ہے۔ پہلے میں بیان کرچکا ہوں کہ اسلامی نظام تو قائم ہی اس معاشرے میں ہوا تھا جس کے اندر سب سے پہلے ایمان کو مستحکم کیا گیا تھا، پھر اسی ایمان کی مضبوط بنیاد پر پورے اخلاقی نظام کی، پورے معاشرتی نظام کی، پورے معاشی نظام کی، پورے سیاسی نظام اور پورے قانونی نظام کی عمارت اُٹھائی گئی تھی۔ اب اگر ہم اس مثالی دَور کی طرف پلٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسی ترتیب سے پلٹنا چاہیے۔
عام مسلمانوں کے دلوں میں اگر خدا پر ایمان، رسولؐ پر ایمان، قرآن پر ایمان اور آخرت پر ایمان مضبوطی کے ساتھ نہ بٹھایا گیا تو محض قوانین کو بدلنے سے کام نہ چلے گا.... اسلامی قانون صحیح طور پر کیسے نافذ ہوگا، جب کہ اس کو نافذ کرنے والی مشینری ہی بگڑی ہوئی ہے۔ قوانین اسلامی کے نفاذ کی تدبیریں کرنے کے ساتھ موجودہ حکومت کے لیے بھی اور آیندہ آنے والے حکمرانوں کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ ملک کی انتظامیہ کو بھی درست کریں۔ تعلیم کے نظام کی بھی اصلاح کریں اور ملک کے تمام ذرائع و وسائل کو اس بات پر صَرف کردیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایمان بٹھایا جائے۔ ان کے اخلاق درست کیے جائیں اور ان کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔
۞راے عامہ کی ھمواری اور دباؤ:اسلامی قانون میں ڈنڈے کا بھی ایک مقام ہے مگر وہ سب سے آخر میں آتا ہے۔ اسلام میں ترتیبِ کار یہ ہے کہ پہلے ذہنوں کی اصلاح کا کام تعلیم و تلقین کے ذریعے سے کیا جائے تاکہ لوگوں کے خیالات تبدیل ہوں۔ پھر لوگوں کے اندر اسلامی اخلاق پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جائے۔ یہاں تک کہ محلّے محلّے، بستی بستی اور کوچے کوچے میں ایسے لوگ تیار ہوجائیں جو بدکرداروں کو عوام کی مدد سے دبائیں اور اپنے اپنے علاقے کے باشندوں میں دین داری اور دیانت داری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح ملک کے اندر ایک ایسی راے عام پیدا ہوجائے گی جو بُرائیوں کو سر نہ اُٹھانے دے گی۔ کوئی شخص ایسی راے عام کی موجودگی میں بگڑنا چاہے گا تو اس کے راستے میں بے شمار رکاوٹیں پیدا ہوجائیں گی اور جو شخص صحیح طرزِ زندگی اختیار کرے گا اس کو پورا معاشرہ مد د دینے والا ہوگا۔
اس کے ساتھ اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ معاشرہ ایسا ہو جس کے لوگ ایک دوسرے کے ہمدرد اور غم گسار ہوں، ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنے والے ہوں۔ ہرشخص انصاف کا حامی اور بے انصافی کا مخالف ہو۔ ہرشخص اپنے اُوپر پیٹ بھرنا حرام سمجھے اگر اس کو معلوم ہو کہ اس کا ہمسایہ بھوکا سو رہا ہے۔ پھر اسلام ایک ایسا معاشی نظام بھی قائم کرتا ہے جس میں سو د حرام ہو، زکوٰۃ فرض ہو، حرام خوری کے دروازے بند کردیے جائیں۔ رزقِ حلال کمانے کے لیے تمام مواقع لوگوں کے لیے کھول دیے جائیں اور کوئی آدمی اپنی ضروریاتِ زندگی سے محروم نہ رہنے پائے۔ ان تدابیر کے بعد ڈنڈے کا مقام آتا ہے۔ ایمان، اخلاق، تعلیم، انصاف، اصلاح معیشت، اور ایک پاکیزہ راے عام کے دباؤ سے بھی جو آدمی درست نہ ہو تو وہ ڈنڈے ہی کا مستحق ہے۔ اور ڈنڈا پھر اس پر ایسی بے رحمی کے ساتھ علی الاعلان چلایا جائے کہ ان تمام لوگوں کے دماغ کا آپریشن ہوجائے جو جرائم کے رجحانات رکھتے ہوں۔
۞پھلے اِصلاح پہر سزا:لوگ بڑا غضب کرتے ہیں کہ اسلام کے پروگرام کی ساری تفصیل چھوڑ کر صرف اس کی سخت سزاؤں پر گفتگو شروع کردیتے ہیں۔ اسلام پہلے عام لوگوں میں ایمان پیدا کرتا ہے۔ پھر عوام کے اخلاق کو پاکیزہ بناتا ہے۔ پھر تمام تدابیر سے ایک ایسی مضبوط راے عام تیار کرتا ہے جس میں بھلائیاں پھلیں پھولیں اور بُرائیاں پنپ نہ سکیں۔ پھر ایسا معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام قائم کرتا ہے جس میں بدی کرنا مشکل اور نیکی کرنا آسان ہوجائے۔ وہ ان تمام دروازوں کو بند کردیتا ہے جن سے فواحش اور جرائم نشوونما پاتے ہیں۔ اس کے بعد ڈنڈا وہ آخری چیز ہے جس سے ایک پاک معاشرے میں سر اُٹھانے والی ناپاکی کا قلع قمع کیا جاتا ہے۔ اب اس سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے کہ ایسے برحق نظام کو بدنام کرنے کے لیے آخری چیز کو پہلی چیز قرار دیتا ہے اور بیچ کی سب چیزوں کو ایمان کی طرح نِگل جاتا ہے۔
۞تبدیلی کا ذریعۂ انتخابات: [سوال یہ ہے] کہ اس مغربی اندازِ انتخابات کو کس حد تک اسلام کے شورائی نظام سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے اور کس طرح؟ یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ ہم اس وقت جس مقام پر کھڑے ہیں اسی مقام سے ہمیں آگے چلنا ہوگا، اور جس منزل تک ہم جانا چاہتے ہیں اس کو واضح طور پر نگاہ کے سامنے رکھنا ہوگا تاکہ ہمارا ہرقدم اسی منزل کی طرف اُٹھے، خواہ ہم پسند کریں، یا نہ کریں۔ نقطۂ آغاز تو لامحالہ یہی انتخابات ہوں گے۔ کیونکہ ہمارے ہاں اسی طریقے سے نظامِ حکومت تبدیل ہوسکتا ہے اور حکمرانوں کو بھی بدلا جاسکتا ہے۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس وقت ایسا موجود نہیں ہے جس سے ہم پُرامن طریقے سے نظامِ حکومت بدل سکیں اور حکومت چلانے والوں کا انتخاب کرسکیں۔
اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں انتخابات میں دھونس، دھوکے، دھاندلی، علاقائی، مذہبی یا برادری کے تعصبات، جھوٹے پروپیگنڈے، گندگی اُچھالنے، ضمیر خریدنے، جعلی ووٹ بھگتانے اور بے ایمانی سے انتخابی نتائج بدلنے کے غلط طریقے استعمال نہ ہوسکیں۔ انتخابات دیانت دارانہ ہوں، لوگوں کو اپنی آزاد مرضی سے اپنے نمایندے منتخب کرنے کا موقع دیا جائے۔ پارٹیاں اور اشخاص جو بھی انتخابات میں کھڑے ہوں، وہ معقول طریقے سے لوگوں کے سامنے اپنے اصول، مقاصد اور پروگرام پیش کریں، اور یہ بات ان کی اپنی راے پر چھوڑ دیں کہ وہ کسے پسند کرتے ہیں اور کسے پسند نہیں کرتے۔ ہوسکتا ہے کہ پہلے انتخاب میں ہم عوام کے طرزِفکر اور معیارِ انتخابات کو بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہوسکیں۔ لیکن اگر انتخابی نظام درست رکھا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب نظامِ حکومت پورے کا پورا ایمان دار لوگوں کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کے بعد پھر ہم نظامِ انتخاب پر نظرثانی کرسکتے ہیں اور اس مثالی نظامِ انتخابات کو ازسرِنو قائم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جو اسلامی طریقے کے عین مطابق ہو۔ بہرحال آپ یک لخت جست لگاکر اپنی انتہائی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔

آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں

ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔ میرے لئے بائیسکل خرید دیجئے باپ کے لئے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔ اس نے ٹال دیا ۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ آخر کار ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا۔ آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا۔’’ یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے ۔ وہ کچھ دیر تک چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا
.............. آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں پھر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں .............

’’ اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا ۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا ‘‘ اچھا بیٹے ، اطمینان رکھو۔ میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا۔’’ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ پورا کر کے بیٹے کے لئے نئی بائیسکل خرید دی۔

لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی۔جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لئے بھی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لئے تھی۔

یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہےجو لوٹائی نہیں جاتی۔ یہ وہ دعا ہےجس میں بندہ اپنے پوری ہستی کو انڈہل دیتا ہے ۔ جب بندہ کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں ۔جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کرلیتا ہے کہ ‘‘ بیٹا’’ اور ‘‘ باپ’’ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔

یہ وہ لمحہ ہےجب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لےلیتا ہے۔

Wednesday, 14 December 2011

The 26 Major Advantages to Reading

The 26 Major Advantages to Reading More Books and Why 3 in 4 People Are Being Shut Out of Success

If you are one of the non-book readers who feels you “don’t need no stinking books”, here are 26 great reasons to start the habit…before you are left behind!

1. Reading is an active mental process - Unlike TV, books make you to use your brain. By reading, you think more and become smarter.

2. It is a fundamental skill builder - Every good course on the planet has a matching book to go with it. Why? Because books help clarify difficult subjects. Books provide information that goes deeper than just classroom discussion.

3. Improves your vocabulary - Remember in elementary school when you learned how to infer the meaning of one word by reading the context of the other words in the sentence? You get the same benefit from book reading. While reading books, especially challenging ones, you will find yourself exposed to many new words you wouldn’t be otherwise.

4. Gives you a glimpse into other cultures and places - What is your favorite vacation spot? I would bet you read a lot about that destination. The more information the better. Books can expand your horizons by letting you see what other cities and countries have to offer before you visit them.

5. Improves concentration and focus - Like I pointed out before, reading books takes brain power. It requires you to focus on what you are reading for long periods. Unlike magazines, Internet posts or e-Mails that might contain small chunks of information. Books tell the whole story. Since you must concentrate in order to read, like a muscle, you will get better at concentration.

6. Builds self-esteem - By reading more books, you become better informed and more of an expert on the topics you read about. This expertise translates into higher self esteem. Since you are so well read, people look to you for answers. Your feelings about yourself can only get better.

7. Improves memory - Many studies show if you don’t use your memory, you lose it. Crossword puzzles are an example of a word game that staves off Alzheimer’s. Reading, although not a game, helps you stretch your memory muscles in a similar way. Reading requires remembering details, facts and figures and in literature, plot lines, themes and characters.

8. Improves your discipline - Obviously, if 1 in 4 people don’t read one book per year, then there is a discipline issue. There may be many causes for people not reading books such as the “quips” of information you can get on the Internet. TV is also a major distracter. Making time to read is something we all know we should do, but who schedules book reading time every day? Very few… That’s why adding book reading to your daily schedule and sticking to it, improves discipline.

9. Learn anywhere - Books are portable. You can take them almost anywhere. As such, you can learn almost anywhere too.

10. Improves creativity - by reading more books and exposing yourself to new and more complete information, you will also be able to come up with more creative ideas. As a personal example, I read many, many books on IT Networking. So often, when IT Admins are stumped with a problem, I can come up with a creative (smack your head simple) solution that isn’t written anywhere. But the reason I can do that is because I have read so many books on the subject, I can combine lessons from all of them into new solutions.

11. Gives you something to talk about - Have you ever run out of stuff to talk about with your best friend, wife or husband? This can be uncomfortable. It might even make married couples wonder if their marriage is in trouble. However, if you read a lot of books, you’ll always have something to talk about. You can discuss various plots in the novels you read, you can discuss the stuff you are learning in the business books you are reading as well. The possibilities of sharing are endless.

12. Books are inexpensive entertainment - What’s the average price of a movie ticket these days? $8 - $10? You can buy a paperback for that price and be entertained for many hours more. If you have a used bookstore nearby, you can get them even cheaper.

Tip: Once you make reading a habit, you’ll enjoy reading the books in your chosen career as well.

13. You can learn at your own pace - Where formal education requires time commitments, books have no late-bells or hourly commitments. So you can learn at your own pace when you read books.

14. New mental associations - I touched on this above. As you read more books the depth and breadth of your knowledge expands and your ability to form new associations increases. In reading a book to discover the solution to one problem, you find the solution to others you may not have considered.

15. Improves your reasoning skills - Books for professionals contain arguments for or against the actions within. A book on cooking argues that Chili powder goes well with beef and goes poorly with ice-cream. A book on building a business argues that testing an idea for profitability before setting up is a smart strategy and argues against just barreling forward with the idea without testing.

You too will be able to reason better with the knowledge you gain. Some of the arguments will rub off on you. Others you will argue against. Regardless, you’ll be reasoning better.

16. Builds your expertise - Brian Tracy has said one way to become an expert in your chosen field is to read 100 books on the subject. He also said by continuing the same for 5 years you’ll become an international expert. With the Internet and blogs, you could hone that time down to 2-3 years if you follow through.

17. Saves money - Apart from saving money on entertainment expenses. Reading books that help you develop your skills saves money. Reading books on how someone went bankrupt will be a warning to you against repeating their mistakes. Reading a book on how to build your own backyard deck saves the expense of hiring a contractor.

18. Decreases mistakes - Although I would never suggest putting off an important goal because you fear making mistakes, it is still important to sharpen the saw (link to A.L. post). When you gather the deep and wide wisdom that books can provide, you are less apt to make mistakes.

19. You’ll discover surprises - As you read more books as a source of information, you’ll learn stuff you weren’t looking for. I’ve read many great quotes on life and love by reading books on marketing. I’ve learned facts about biology from reading about chemistry. Heck, I’ve picked up some facts about history while reading about programming. Since so many subjects intertwine it’s almost impossible not to learn something other than the book’s subject.

20. Decreased boredom - One of the rules I have is if I am feeling bored, I will pick up a book and start reading. What I’ve found by sticking to this is that I become interested in the book’s subject and stop being bored. I mean, if you’re bored anyway, you might as well be reading a good book, right?

21. Can change your life - How many times have you heard of a book changing someone’s life? For me, it was Your Erroneous Zones (link) by Wayne Dyer - which is the first self-development book I read. It opened my eyes to a whole new way of thinking that was not depressing and dull. It was the first step in my path of choosing my own life and being free of old habitual thought patterns.

There are many, many other books out there that have a reputation for changing lives including Getting Things Done: The Art of Stress-Free Productivity, Handbook to Higher Consciousness, Atlas Shrugged , A Tree Grows in Brooklyn, Lord of the Rings and Black Boy to name a few. But you can start in your chosen field and work your way outward.

22. Can help break a slump - Being in a slump is uncomfortable. If you are a writer, you call it writer’s block. If you are a salesperson, it’s called - not making a sale in 23 days. But a slump can be a crossroads. It might be you are wavering on your commitment to a particular project or (with marriage) person. Or a slump can be simply a lack of new ideas. Books are a great source of ideas, big and small. So if you find yourself in a slump, pick a book on the portion of your life you are slump-ing and get to reading!

23. Reduces stress - Many avid readers (including me) unwind by reading. Compared with the person who gets home from work and immediately turns on the TV news, you are going from work stress to crime stress. But it’s not just news. TV as a source of relaxation is too full of loud commercials and fast moving (often violent) images. If relaxation is something you want, turn off the TV or computer and pick up a book.

24. Gets you away from digital distractions - If you, like many others, feel overwhelmed with the flashing lights, beeps, boops and ring-a-dings that burn up our computing lives, then give books a chance. When you find some good books, you’ll find yourself drawn into the subject matter. You’ll want to spend more time reading. By spending more time reading books, you’ll have less time for the plethora of the digital gadgets begging for our attention.

25. You’ll make more money - If you make a serious effort to read in your chosen career, your expertise in that specialty will increase. As you become more specialized and learned, you join a smaller group of more qualified people. By being part of the small few with the highest level knowledge your pay will increase. It’s simple supply and demand.

26. The book is always better than the movie - except for perhaps No Country for Old Men.

What are some of the most important books you have read? What is the title that changed your life? If you’ve found a book that made a major change in how you work, live or love

Sunday, 16 October 2011

اعترافِ عظمت صلی اللہ علیہ وسلم لیکن۔۔۔

شیریں زادہ خدوخیل*

دسمبر کی سرد رات ہے، چاروں طرف گھپ اندھیرا ہے، خاموشی کا راج ہے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے۔ اس سناٹے میں ہلکی بارش کی آواز مسلسل ایک تواتر سے آرہی ہے جو آج صبح سے شروع ہوچکی ہے جس کی وجہ سے سردی بہت بڑھ گئی ہے اور وقت سے پہلے اندھیرا چھا گیا ہے۔ میری بیوی بچے سرِشام کھانے کے بعد لحاف میں دبک گئے ہیں۔ میں اپنے اسٹڈی روم میں ایک کرسی پر سوچوں میں گم بیٹھا ہوں۔ گیس کا ہیٹر اگرچہ کافی تیز ہے لیکن پھر بھی میں نے اپنے پیروں اور ٹانگوں پر کمبل ڈال رکھا ہے۔ لیٹنے سے قبل میری بیوی نے گرم چائے کا کپ لاکر میری میز پر رکھا تھا جو اب خالی ہے۔ دراصل میں ایک ذہنی خلجان میں مبتلا ہوں۔ ایک الجھی ہوئی ڈور سلجھانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن اس کا سرا ہاتھ نہیں آرہا ہے۔ اس الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے میں اب مَیں خود بری طرح اُلجھ چکا ہوں۔ میرا ذہن ماؤف ہورہا ہے اور میری عقل ساتھ دینے سے عاجز ہے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے۔
میرے چاروں طرف سیرت النبیؐ پر لکھی گئی کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ میں گذشتہ کئی مہینوں سے سیرت النبیؐ کا تحقیقی مطالعہ کر رہا ہوں۔ سامنے میز پر سیرۃ النبیؐ ابن ہشام کی دوموٹی جلدیں پڑی ہیں جن کا مولانا غلام رسول مہر اور پروفیسر عبدالجلیل صدیقی نے خاصی محنت سے اردو ترجمہ کیا ہے۔ اس کے پہلو میں امام ابن حزم ظاہری کی جوامع السیرۃ پڑی ہے جو مختصر ہونے کے باوجود انتہائی جامع سیرت ہے۔ اس کے اُوپر تاریخ ابن خلدون کی پہلی جلد رکھی ہے جو سیرت النبیؐ پر مبنی ہے۔ طبقات ابن سعد کی پہلی دو جلدیں ہیں۔ اس کے دائیں طرف شبلی نعمانی کی سیرت النبیؐ اور مولانا مودودی کی سیرت سرورِعالمؐ ہے۔ اس کے ساتھ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری کی رحمۃ للعالمینؐ کی تینوں جلدیں ہیں۔ بائیں طرف نعیم صدیقی کی محسنِ انسانیتؐ چند کتب کے اُوپر رکھی ہے۔ ریک میں نقوش کے رسول نمبر کی جلدیں قطار میں رکھی ہیں۔یہ صرف وہ چند کتابیں ہیں جو اس وقت مجھے نظر آرہی ہیں، قریبی الماریوں میں سیرت النبیؐ پر انتہائی نادر اور نایاب ذخیرہ کتب مقفل ہے، جب کہ کتب حدیث اس کے علاوہ ہیں۔ 
سیرت النبیؐ کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ کرنے والے سیرت نگاروں کی ایک روشن کہکشاں ہے جو لامتناہی ہے لیکن اس روشن کہکشاں میں شامل ناموں پر مجھے کوئی حیرت نہیں، کوئی اچنبھا نہیں، اس لیے کہ یہ سب اہلِ قلم مسلمان تھے۔ ان کا ایک دینی جذبہ تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی محبت تھی،ان کی والہانہ عقیدت کا اظہار تھا جو انھوں نے آپؐ سے کیا۔ کیونکہ آپؐ انسانِ کامل تھے۔ تمام جہانوں کے لیے رُشد و ہدایت کا منبع تھے، آپؐ کی تعلیمات نے زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا، اس لیے سیرت النبیؐ کے اتنے پہلوؤں پر اتنی کتابیں لکھی گئیں کہ شاید ہی سیرتِ رسولؐ کا کوئی پہلو تشنہ رہ گیا ہو۔ مسلمان ہونے کے ناتے آپؐ سے محبت و عقیدت ہر ایک کا جزوِ ایمان ہے، مگر مجھے ان لوگوں پر حیرت ہورہی ہے جو مسلمان نہیں لیکن آپؐ کی عظمت کے قائل ہیں۔ آپؐ کو نبیِ برحق تسلیم کرتے ہیں، آپؐ کی تعلیمات کو دنیا و آخرت دونوں کے لیے فلاح کا سبب سمجھتے ہیں۔ انھوں نے بغیر کسی تعصب کے آپؐ کی سیرت کا مطالعہ کیا اور اس کے بعد بے ساختہ آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی۔ حیرت ہے کہ باوجود اس اعتراف کے وہ پھر بھی دولتِ ایمان سے محروم رہیں۔ جن غیرمسلم سیرت نگاروں نے سیرت لکھتے ہوئے جھوٹ، تعصب، اتہام اور دشنام سے کام لیا اور جو بے سروپا اور بے پَرکی اُڑانے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں، میں ان لوگوں کی بات نہیں کرتا۔
آپؐ کی عظمت کا اعتراف کرنے والوں میں بڑے بڑے اہلِ قلم کے نام نظر آتے ہیں۔ بڑے نامی گرامی راہب ہیں، سیاست دان ہیں، پنڈت ہیں، فلاسفر ہیں، شاعر اور ادیب ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی عقل کی، جن کے فہم اور اہلیت و قابلیت کی ایک دنیا معترف ہے، جن کی حقیقت شناسی اور بے تعصبی سب پر عیاں ہے، مگر جب بات ایمان کی آتی ہے تو ان کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ چشمۂ حقیقت تک پہنچنے کے باوجود وہ تشنۂ لب رہ جاتے ہیں جس پر مجھے حیرت کے ساتھ تعجب بھی ہورہا ہے اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ میں گذشتہ کئی دنوں سے اسی گتھی کو سلجھانے میں سرگرداں ہوں۔
اس وقت بارش کی آواز کچھ تیز ہوگئی تو مجھے یوں ہی ایک کپکپی آگئی، حالانکہ کمرہ خوب گرم ہے، گیس ہیٹر لگا ہوا ہے، کمبل میرے پیروں پر پڑا ہے۔ سامنے دیوار پر لگے کلاک پر نظر پڑی تو نوبجنے کو تھے۔ آج کھانے کے بعد میں نے عشاء کی نماز گھر پر ہی پڑھ لی تھی کیونکہ محلے کی مسجد تک جانا میرے لیے دشوار تھا، بارش بھی ہو رہی تھی اور سردی بھی خاصی زیادہ تھی۔ مسجد فاصلے پر ہے اورراستے میں کیچڑ ہوتا ہے لیکن شاید میں صحیح نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ ایک طرح کا بہانا ہے کیونکہ اس سے بھی خراب موسم میں محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے عموماً جاتا رہا ہوں۔ دراصل جس چیز نے مجھے مسجد جانے سے روکا تھا وہ کونسٹن ورژیل کی سیرت النبیؐ پر لکھی ہوئی کتاب کے آخری صفحات تھے جو مجھے پڑھنے تھے۔ یہ کتاب عکسِ سیرت کے نام سے سیارہ ڈائجسٹ نے خصوصی نمبر کے طور پر شائع کی تھی جس کا رواں اور خوب صورت ترجمہ خلیل احمد نے کیا ہے۔
کونسٹن ورژیل جورجیو جن کا تعلق رومانیہ سے ہے، اپنے ملک کے وزیرخارجہ بھی رہے___ یہ ان کی بہت مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب انھوں نے خاصی تحقیق کے بعد ہمدردانہ بلکہ عقیدت مندانہ انداز میں لکھی ہے۔ اس کتاب میں وہ اہلِ مغرب سے مخاطب ہیں کہ محمدؐ کو تعصب، بے جا تنقید، نکتہ چینی و عیب جوئی کے بجاے ازسرِنو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ان کا محققانہ انداز، وسیع مطالعہ سیرت اور طرزِ تحریر اور عقیدت و احترام کو دیکھ کر مجھے حیرت ہورہی ہے۔ میں گذشتہ دوتین دنوں سے اس کتاب میں اس قدر محو ہوں کہ کسی اور طرف بہت مشکل سے متوجہ ہوپاتا ہوں۔ کتاب میں حد سے زیادہ دل چسپی ہی نے شاید مجھے مسجد جانے سے روکا، بارش بہانا بنی اور گھر میں نمازِ عشاء ادا کرنے کے بعد میں پھر سے بیٹھ گیا اور کتاب ختم کرکے ہی دم لیا۔ مگر کتاب ختم کرنے کے بعد میں سوچوں کے سمندر میں اس کشتی کی طرح تھپیڑے کھانے لگا جس کو چاروں طرف سے طوفان نے گھیر لیا ہو۔ مجھے کتاب سے زیادہ کونسٹن ورژیل پر حیرت ہورہی تھی کہ باوجود اس قدر تحقیق، عقیدت اور احترام کے کلمہ طیبہ ان کی زبان پر نہ آسکا۔ میں دیر تک اس کتاب کو تکتا رہا اور پھر اُٹھا کر الماری میں رکھ دی۔
اچانک میری نظر مشہور روسی ناول نگار ٹالسٹائی کے شہرۂ آفاق ناول جنگ اور امن پر پڑی جس کا اُردو ترجمہ شاہد حمیدنے کیا ہے۔ اس ناول کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا بہترین ناول ہے۔ اگرچہ یہ اچھا خاصا ضخیم ناول ہے اور ہرکسی کے پڑھنے کے بس کا نہیں۔ جنگ اور امن کے علاوہ ان کا دوسرا ناول آنا کارنینا بھی ایک لاجواب شاہکار ہے۔ جنگ آزادی چیچنیا کے پس منظر میں ان کا آخری مختصر ناول حاجی مراد بھی ایک بے مثال ناول ہے جس میں اُنھوں نے امام شامل اور چیچن مجاہدین کی تحریکِ آزادی کی ایک جھلک دکھائی ہے۔
ٹالسٹائی انسانی محبت اور عدم تشدد کا علَم بردار تھا۔ اس نے ایک جاگیردار ہونے کے باوجود اپنی ساری جایداد اور دولت اپنے خاندان اور غریب غربا میں تقسیم کر دی، اور زارشاہی کے استبداد کے سامنے جمہوریت، مساوات اور اخوت کی بات کی۔ زارشاہی کو ناپسند ہونے کے باوجود وہ اس کے خلاف کوئی اقدام نہ اُٹھا سکے، اور روسی کلیسا نے بھی اسے ملحد قرار دیا تھا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا طرزِعمل اخلاق کا حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تبلیغ و ہدایت خالص سچائی پر مبنی تھی۔ آپؐ نے دنیا میں حقیقی ترقی اور تمدن کی راہیں کھول دیں۔ یہ اتنا عظیم الشان کارنامہ ہے جو اس شخص کے سوا کوئی نہیں کرسکتا جسے خاص قوت دی گئی ہو‘‘۔ اکثر ادبی حلقوں میں ان کو نوبل انعام نہ ملنے پر تعجب کا اظہار ہوتا ہے لیکن میں ان کے کلمہ نہ پڑھنے پر متعجب ہورہا ہوں۔
آنا کارنینا سے نظریں ہٹاکر جب میں الماری بند کرنے لگا تو اچانک میری نظر ٹائن بی کی مشہور تصنیف A Study of Historyکی ایک جِلد پر پڑی۔ ۱۲ جلدوں پر مشتمل یہ کتاب جس کی مجھے بڑی جستجو ہے، اس کی یہ ایک جلد پرسوں میں نے اتوار بازار میں ایک فٹ پاتھیئے سے خریدی جو پرانی کتابیں بیچ رہا تھا۔ ضروری مرمت کروانے کے بعد میں نے یہ کتاب یہاں رکھی ہے کہ کسی وقت آرام سے بیٹھ کر اس کا مطالعہ کروں گا۔ ٹائن بی دنیاے تاریخ کا ایک انتہائی معتبر نام ہے۔ ہمارے ایک پروفیسر صاحب بڑے فخر سے ہمیں بتایا کرتے تھے کہ ’’ٹائن بی ۱۹۵۷ء اور ۱۹۶۰ء میں دو مرتبہ پاکستان آئے تھے اور دونوں مرتبہ میں ان سے ملا تھا‘‘۔ وہ ان کی مؤرخانہ علمی دیانت کے بڑے معترف تھے اور واقعی ان کی علمی اور ادبی حیثیت میں کسی شک کی گنجایش بھی نہیں۔ انھوں نے موجودہ طبقاتی، نسلی امتیاز اور عالمی سطح پر ناانصافی کے خاتمے کے لیے اسوۂ حسنہ کو مشعلِ راہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسلام کے ذریعے انسانوں میں رنگ و نسل اور طبقاتی امتیاز کا یکسر خاتمہ کر دیا۔ کسی مذہب نے اس سے بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کو نصیب ہوئی۔ آج کی دنیا جس ضرورت کے لیے رو رہی ہے اسے صرف اور صرف مساواتِ محمدیؐ کے نظریے کے ذریعے ہی پورا کیا جاسکتا ہے‘‘۔
ٹائن بی کے ساتھ مجھے ایک اور بڑے مؤرخ ایڈورڈ گبن کا خیال آیا جو سقوطِ سلطنت روما کے مصنف ہیں۔ یہ کتاب ان کے ۲۰سال کی متواتر شب و روز کی مشقت کا ثمر ہے۔ یہ کتاب ۱۷۷۶۔۱۷۸۸ء کے دوران چھے جلدوں میں شائع ہوئی اور ابھی تک تاریخ اور ادب دونوں میدانوں میں بلندپایہ تصنیف جانی جاتی ہے۔ اس مشہور تصنیف میں آپ رقم طراز ہیں: ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذہب شک و ابہام سے بالکل مبرا ہے۔ قرآن خدا کی درخشندہ شہادت ہے۔۔۔ قرآن کی نسبت بحراوقیانوس سے لے کر دریاے گنگا تک سب نے تسلیم کرلیا ہے کہ وہ واضح راستہ ہے، اور ایسے دانش مندانہ اصول اور عظیم الشان قانونی انداز پر مرتب شدہ ہے کہ اس کی نظیر پوری کائنات میں کہیں نہیں مل سکتی۔ قرآن وحدانیت کا سب سے بڑا گواہ ہے۔ ایک توحید پرست فلسفی اگر کوئی مذہب قبول کرسکتا ہے تو وہ مذہب اسلام ہی ہے‘‘۔
فلسفے سے میرا دھیان مشہور فلسفی، ریاضی دان اور انشا پرداز برٹرنڈرسل کی طرف چلا گیا جو جارحیت اور خاص کر جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی جارحیت کے خلاف مرتے دم تک نبردآزما رہا، جو مذہب، سرمایہ داری اور کمیونزم تینوں کا مخالف تھا لیکن مذاہب عالم کے مخالف ہونے کے باوجود وہ اعتراف کرتا ہے کہ ’’حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین توازن پر کھڑا ہے۔ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) ایک عظیم الشان اور فقیدالمثال مذہبی رہنما تھے۔ وہ ایک ایسے دین کے بانی تھے جو بُردباری، مساوات اور انصاف کی بنیادوں پر کھڑا ہے‘‘۔
میں رسل کے الفاظ پر غور کر رہا تھا کہ اچانک میری بیگم نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا، ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا اندر کو لپکا جس نے کمرے کی حدت کو یکدم کافی کم کر دیا۔ اس نے اگرچہ جلدی سے دروازہ بند کر دیا مگر پھر بھی کمرے میں ٹھنڈک کی ایک لہر گردش کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں آج کا اخبار اور ایک کتاب تھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا:آپ کا کمرہ تو اچھا خاصا گرم ہے، اسی لیے آپ یہاں دبکے بیٹھے ہیں۔ میں لیٹی ہی تھی کہ اچانک خیال آیا کہ آج کا اخبار تو آپ نے دیکھا ہی نہیں، یہ لیں آج کا اخبار اور یہ کتاب سو بڑے لوگ بھی سنبھال لیں۔بڑے لڑکے کے سرہانے گذشتہ دو تین روز سے پڑی تھی کہیں اِدھر اُدھر نہ ہوجائے۔
میں مائیکل ہارٹ کی کتاب اپنی جگہ پر رکھنے لگا۔ پتا نہیں اس کتاب میں کیاہے کہ لوگ آج کل اسے دھڑادھڑ خرید رہے ہیں۔ سو بڑے لوگ میں اول نمبر پر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہے۔ اس کتاب میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ واحد تاریخی ہستی ہے جو مذہبی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر برابر طور پر کامیاب رہی۔ آپؐ کو سو بڑے آدمیوں میں سب سے پہلے نمبر پر رکھنا اس کی مجبوری تھی کیونکہ انسانی تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی شخصیت صرف آپؐ ہی تھے اور یہی اس کی وجۂ جواز ہے۔
کتاب رکھ کر میں واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا اور ایک مرتبہ پھر اپنی سوچوں میں کھو گیا اور جان ڈیون پورٹ کے یہ الفاظ گویا میرے دل کی ترجمانی کر رہے تھے جو انھوں نے اپنی کتاب قرآن اور محمدؐ سے معذرت کے ساتھ میں لکھے ہیں کہ محمدؐ رسول اللہ میں سواے سچائی اور حقانیت کی تعلیم کے جذبہ و جوش کے اور کچھ نہ تھا۔ پھر آخر لوگوں کو یہ یقین کیوں نہیں آتا کہ وہ سچائی اور حقانیت کی تعلیم کے لیے ہی دنیا میں آئے تھے‘‘۔
جان ڈیون پورٹ جس نے مغرب کے متعصب دانش وروں اور پادریوں کی جھوٹی تہمتوں اور ناروا الزامات سے آپؐ کو مبرا قرار دینے کے لیے یہ کتاب لکھی مگر اس کا قلب کیوں اس حقیقت اسلام کو تسلیم نہیں کرسکا؟ اس کا دل اس نورِ ایمان سے کیوں منور نہ ہوسکا؟___ یہ وہ سوالات ہیں جنھوں نے مجھے بے چین کیا ہے۔
میرے ذہن میں مشہور انگریز ادیب اور ڈراما نگار برنارڈشا کے الفاظ گونجنے لگے: ’’آج انسان جس طرح فطرت سے دُور ہورہا ہے وہ ضرور قانونِ فطرت کی طرف رجوع کرے گا، اور اس وقت اس کے لیے پھر کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ اسلام سے رجوع کرے مگر وہ موجودہ زمانے کا اسلام نہ ہوگا، بلکہ وہ اسلام ہوگا جو محمدؐ رسول اللہ کے زمانے میں دلوں، دماغوں اور روحوں میں جاگزیں تھا‘‘۔
میں اپنی سوچوں میں غلطاں تھا کہ میرے تخیل میں گاندھی جی کی تصویر اُبھری۔ نحیف و نزار جسم، ایک لنگوٹی باندھے، عدم تشدد کا پیامبر، برعظیم پاک و ہند کی آزادی کا ناقابلِ فراموش کردار، ناتواں جسم لیکن آہنی حوصلے کا مالک جو کسی سے مرعوب نہیں ہوا، مگر آپؐ کے حضور وہ بھی سر جھکائے پر نام کرتے کھڑے ہوئے کہہ رہے ہیں: ’’بلاشبہہ آپؐ ساری دنیا کے روحانی پیشوا تھے۔ آپؐ ہی کی تعلیمات کو میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کسی روحانی پیشوا نے خدا کی بادشاہت کا ایسا جامع اورمانع پیغام اس کے بندوں تک نہیں پہنچایا جو آپؐ نے آکر پہنچایا ہے‘‘۔
گاندھی جی کے بعد مجھے بدھ دھرم کے پیشواے اعظم مانگ تونگ زرد لباس پہنے کھڑے نظر آئے جو کہہ رہے تھے: ’’حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ظہور بنی نوع انسان پر خدا کی ایک رحمت تھی۔ لوگ کتنا ہی انکار کریں مگر آپؐ کی اصلاحات عظیمہ سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ ہم بدھ دھرم کے ماننے والے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) سے بے حد محبت رکھتے ہیں۔ آپؐ کا انتہائی احترام کرتے ہیں‘‘۔
ایک بار پھر اپنے خیالات سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں نے اپنا سر جھٹک دیا اور اُٹھ کر ادبی اور تنقیدی کتابوں کو اُلٹنے پلٹنے لگا کہ شاید کوئی ناول، کوئی افسانوی یا شعری مجموعہ میری توجہ اپنی طرف مبذول کرلے اور ان خیالات سے میرا پیچھے چھوٹ جائے جو بادل کی طرح میرے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں اورجنھوں نے مجھے جکڑ رکھا ہے۔ میں ادبی اور تنقیدی کتابوں کا جائزہ لے رہا تھا کہ میری نظریں تلوک چند اور ان کے فرزند جگن ناتھ آزاد کی کتابوں پر رُک گئی۔ یہ دونوں اُردو ادب کے بہت بڑے نام ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں باپ بیٹے نے نعتیں کہی اور لکھی ہیں۔ میرے لبوں پر بے اختیار جگن ناتھ آزاد کا ایک نعتیہ شعر آگیا ؂
مبارک ہو زمانے کو کہ ختم المرسلینؐ آئے
سحاب رحم بن کر رحمت للعالمینؐ آئے
بہت سی کتابوں کے باوجود میرا ہاتھ کسی کتاب کی طرف نہ بڑھ سکا۔ میں واپس آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور بے دلی سے اخبار کی سرخیاں ایک بار پھر دیکھنے لگا تو میری نظریں ایک سرخی پر جم کر رہ گئیں۔ یہ ایک امریکی پادری اور چند متعصب صحافیوں کے متعلق خبر تھی جس میں آپؐ اور قرآن کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے گئے تھے۔ مجھے اس پادری اور ان صحافیوں کی ذہنی حالت پر افسوس ہونے لگا جو معلومات عامہ کے بیش بہا خزانے آسانی سے دستیاب ہونے کے باوجود اپنی جہالت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ شاید جرمن فلاسفر جان جاک ولیک نے انھی لوگوں کے لیے کہا تھا کہ: ’’یہ تھوڑی عربی جاننے والے قرآن پاک کا تمسخر اُڑاتے ہیں۔ اگر وہ لوگ خوش نصیبی سے کبھی آنحضرتؐ کی معجز نما قوتِ بیان سے قرآن کریم کی تشریح سنتے تو یقیناًیہ لوگ بے ساختہ سجدے میں گر پڑتے اور سب سے پہلی آواز ان کے منہ سے یہ نکلتی کہ ’’پیارے نبیؐ! پیارے رسولؐ! ہمارا ہاتھ پکڑ لیجیے، ہمیں اپنے پیروکاروں میں شامل کر کے عزت اور شرف عطا فرمانے میں دریغ نہ فرمایئے‘‘۔ مگر میرے ذہن میں پھر وہی سوال لوٹ کر آیا کہ اس اعتراف کے باوجود جان ولیک کیوں اللہ تعالیٰ کے حضور میں سربسجود نہ ہوسکا؟
میں نہ جانے اور کتنی دیر تک ان خیالوں میں گم رہتا اگر میری بیوی چائے بناکر نہ لاتی، اس کی آمد سے میری محویت ٹوٹ گئی۔ میں نے اپنی ٹانگوں پر کمبل اچھی طرح پھر سے ٹھیک کیا اور گرم گرم چائے کی چسکیاں لینے لگا جس سے میرے تنے ہوئے اعصاب ذرا سکون محسوس کرنے لگے۔ چائے ختم کرنے کے بعد میرے ہاتھ خود بخود قرآن مجید کی طرف بڑھے جو میری کرسی کے پیچھے انگیٹھی کے کارنس پر رکھا تھا۔ میں ہرصبح نماز کے بعد باقاعدگی سے اس کی تلاوت کرتا ہوں۔ میں اپنے سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے قرآن پاک کی ورق گردانی کرنے لگا۔ اچانک در معنی کھل گیا، میں جس گتھی کے سلجھانے میں سرگرداں تھاس کا سرا ہاتھ آگیا:
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ o(یونس ۱۰:۵۷)
اے لوگو! تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کرلیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔
میرے بے قرار دل کو قرار آیا۔ تناؤ کی ساری کیفیت ختم ہوگئی۔ میری ساری کلفت دُور ہوگئی۔ ذہن پر چھائی ہوئی دھند چھٹ گئی ۔ میں نے بار بار اس آیت شریفہ کو پڑھا۔
یہ بڑے بڑے عظیم فلاسفر، شاعر، ادیب، مفکر، سائنس دان اگرچہ انتہائی ذہین اور اختراعی ذہن رکھتے تھے مگر ان کے دلوں کو شفا نہ مل سکی، کیونکہ عظمتِ رسولؐ کے اعتراف کے باوجود وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ نہ پڑھ سکے۔ اس لیے کہ انھوں نے رسول اکرمؐ کوقرآن کے بغیر سمجھنے کی کوشش کی۔ انھوں نے رسول اکرمؐ کو دیکھا تو صرف ایک انسان کی حیثیت سے دیکھا۔ انھوں نے آپؐ کے کردار کو جانچا اور پرکھا۔ ابولہب اور ابوجہل سے زیادہ رسولؐ کے کردار سے کون واقف تھا۔ اس نظر سے تو سارے کفارِ مکہ نے آپؐ کو دیکھا، جانچا اور پرکھا تھا۔ اس کے باوجود کہ وہ آپؐ کو صادق پکارتے، الامین کہتے، اپنی امانتیں آپؐ کے سپرد کرتے، آپؐ سے اپنے فیصلے کرواتے تھے۔ آپؐ کے کردار میں ان کو کوئی کلام نہ تھا۔ وہ جس سے گریزاں تھے وہ قرآن تھا، جو شمع نبوت کا نور تھا، جو ایسا مصحف ربانی تھا، جو دلوں کو شفا دینے والا تھا، جو رحمت اور بھلائی کی طرف لانے والا تھا۔ فکر و نظر کی یہی خامی تھی جس کے سبب وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اعتراف کے باوجود محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ نہ پڑھ سکے۔
میں نے قرآن پاک کو چوما اور آنکھوں سے لگایا۔ میرے سوال کا جواب مجھے مل چکا تھا۔ میں سوچ کی دلدل سے نکل آیا، دل طمانیت سے بھر گیا۔ میں نے جاے نماز بچھائی اور شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا!
_______________
* مضمون نگار، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول، غازی کوٹ ضلع بونیر کے پرنسپل ہیں۔